Home اہم خبریں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بات چیت کے بعد، اور ان کی درخواست پر کہ ایران کے خلاف آج رات کی کارروائی کو روکا جائے، میں اس بات پر متفق ہوں کہ ایران کے خلاف بمباری اور حملے دو ہفتوں کے لیے معطل کیے جائیں، بشرطیکہ ایران فوری، مکمل اور محفوظ طریقے سے آبنائے ہرمز کو کھول دے۔”……..صدر ڈونلڈ ٹرمپ

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بات چیت کے بعد، اور ان کی درخواست پر کہ ایران کے خلاف آج رات کی کارروائی کو روکا جائے، میں اس بات پر متفق ہوں کہ ایران کے خلاف بمباری اور حملے دو ہفتوں کے لیے معطل کیے جائیں، بشرطیکہ ایران فوری، مکمل اور محفوظ طریقے سے آبنائے ہرمز کو کھول دے۔”……..صدر ڈونلڈ ٹرمپ

یران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی تصدیق کی کہ ایک عبوری معاہدہ طے پا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا: "اگر ایران کے خلاف حملے روک دیے جاتے ہیں تو ہماری مسلح افواج بھی دفاعی کارروائیاں بند کر دیں گی، اور دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزر ممکن بنایا جائے گا۔"انہوں نے اس پیش رفت میں پاکستان کے کردار کو بھی سراہا۔

by Ilmiat

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران ان کے مطالبات نہ مانتا تو “آج رات پوری تہذیب تباہ ہو سکتی تھی”، تاہم ایران کی جانب سے عندیہ ملنے کے بعد انہوں نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔

ٹرمپ نے منگل کی شام اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا:
“وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بات چیت کے بعد، اور ان کی درخواست پر کہ ایران کے خلاف آج رات کی کارروائی کو روکا جائے، میں اس بات پر متفق ہوں کہ ایران کے خلاف بمباری اور حملے دو ہفتوں کے لیے معطل کیے جائیں، بشرطیکہ ایران فوری، مکمل اور محفوظ طریقے سے آبنائے ہرمز کو کھول دے۔”

یہ اعلان حملے کی مقررہ ڈیڈ لائن سے محض ڈیڑھ گھنٹہ قبل کیا گیا۔

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی تصدیق کی کہ ایک عبوری معاہدہ طے پا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا:
“اگر ایران کے خلاف حملے روک دیے جاتے ہیں تو ہماری مسلح افواج بھی دفاعی کارروائیاں بند کر دیں گی، اور دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزر ممکن بنایا جائے گا۔”انہوں نے اس پیش رفت میں پاکستان کے کردار کو بھی
سراہا۔

ٹرمپ نے کہا کہ یہ “دو طرفہ جنگ بندی” ہوگی اور ایران کی جانب سے پیش کردہ 10 نکاتی منصوبہ مذاکرات کے لیے قابلِ عمل بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان زیادہ تر اختلافی نکات طے پا چکے ہیں اور آئندہ دو ہفتے حتمی معاہدے تک پہنچنے میں مدد دیں گے۔تا ہم انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی مکمل طور پر ایران کے اقدامات، خصوصاً آبنائے ہرمز کھولنے، سے مشروط ہے۔

دوسری جانب ماہرین اور مبصرین اس اعلان کو محتاط امید کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں اس فیصلے کو ایک بڑی راحت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ خطہ ایک بڑے فوجی تصادم کے دہانے پر تھا۔یاد رہے کہ یہ جنگ فروری کے آخر میں اس وقت شروع ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، جس کے جواب میں ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کیں۔ تاہم قانونی ماہرین اس جنگ کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔

You may also like

Leave a Comment