مضان المبارک میں ہر مسجد میں نماز تراویح میں قرآن مجید کے ختم کا باقاعدہ اہتمام ہوتا ہے۔ حفاظ کرام اپنے اپنے شوق کے مطابق روزانہ مصلی کا اہتمام کرتے ہیں اور اس کے مطابق قرآن پاک کا حصہ تلاوت کرتے ہیں، کوئی سورتوں کے مطابق تقسیم کرتا ہے اور کوئی پاروں کے مطابق۔ ہم قرآن پاک کا خلاصہ سورتوں کے مطابق بیان کریں گے۔ غرض بہرحال رمضان المبارک میں قرآن پاک کے واسطہ سے سعادت حاصل کرنا ہے۔
پہلی تراویح
سورہ الفاتحہ:پہلی سورت
قرآن مجید کی پہلی سورہ ہے۔ رسول پاک ؐ نے اس کے بے شمار نام بیان فرمائے ہیں، امام جلال الدین سیوطی نے 25 اور مولانا عبدالستار دہلوی نے 30 نام (احادیث کی روشنی میں) درج کئے ہیں۔ ان میں سے مشہور نام درج ذیل ہیں۔ -1الفاتحہ، -2 فاتحہ الکتاب، -3 الدعا، -4 الشفاء، -5 الکنز، -6 اساس القرآن، -7 الحمد، -8 ام القرآن، -9 ام الکتاب -10 الصلٰوۃ وغیرہ۔ -1 سورہ الفاتحہ
جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے، قرآن پاک کی سب سے پہلی سورہ ہے۔گویا اسی سے قرآن پاک کھلتا ہے اور اسی سے اس کی ابتدا ہوتی ہے۔ اس سورۃ میں 7 آیتیں ہیں۔ 27 کلمات ہیں اور 140 حروف ہیں۔ یہ سورہ مکیہ ہے، گو کہ مدینے میں بھی نازل ہوئی ہے۔ یہ سورہ تمام قرآن کا خلاصہ ہے اور اس کے بغیر کوئی رکعت مکمل اور مقبول نہیں۔ اس سورہ سے پہلے بِسم اللہ اَلرحمٰن الرحیم لکھنا اور پڑھنا ضروری ہے، بلکہ سوائے سورہ التوبہ کے ہر سورہ سے پہلے اسے پڑھنا لکھنا چاہئے اور ہر مباح کام کی ابتداء بِسم اللہ اَلرحمٰن الرحیم سے کرنا مستحب اور موجب خیرو برکت ہے۔
سورہ الفاتحہ کی ابتدا حمد و ثنا سے ہوتی ہے۔ اس لئے بِسم اللہ اَلرحمٰن الرحیم کے ساتھ ہی اللہ پاک کی حمد و ثنا کرنا افضل ہے۔ حمد و ثنا کا مستحق صرف اللہ پاک ہے اور صرف اللہ پاک کی ذات کو حمد زیبا ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ سورہ مبارکہ میں حمد و ثناء ہے۔ اس کی ربوبیت، رحمت اور مالکیت کا ذکر ہے۔ خیر کی توفیق بھی اسی سے حاصل ہو سکتی ہے، ہدایت بھی وہی کرتا ہے اور وہی کر سکتا ہے۔ بندوں کو صرف اس کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔ وہی عبادت کے لائق ہے، اسی سے استعانت کرنا چاہئے اور اسی کی مدد کی طلب چاہئے۔ رشد و ہدایت دینے والا بھی وہی ہے۔ دعا کرنے کے آداب بھی اس سورہ میں واضح ہیں کہ صالحین کے حال سے موافقت اور گمراہوں سے اجتناب ہی خاص دعا ہونی چاہئے۔ دنیوی زندگی کا خاتمہ اور جزا و سزا کا دن بھی اسی لئے یاد دلایا گیا ہے کہ ہم صرف اس سے ڈریں جو اس دنیا اور دوسری دنیا کا مالک ہے اور جو ہر طرح اپنے بندوں پر فضل کرنے والا ہے۔ سورۃ فاتحہ کے اختتام پر آمین پڑھنا بھی سنت ہے جس کے معنی ہیں ”ایسا ہی کر“ یا قبول فرما“ یہ لفظ قرآن میں شامل نہیں لیکن اس کا ادا کرنا پسندیدہ ہے کیونکہ حضور انور ﷺ کا پسندیدہ ہے۔
سورۃ البقرہ
سورۃ البقرہ قرآن کی سب سے طویل سورت ہے جس میں ایمان، عبادات، اخلاقیات اور معاشرتی قوانین بیان کیے گئے ہیں۔ اس میں متقین، کفار اور منافقین کی صفات، حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ، بنی اسرائیل کی تاریخ، ان کی نافرمانیوں اور انعامات کا ذکر ہے۔ ایمان، نماز، زکوٰۃ، صبر اور عمل صالح پر زور دیا گیا ہے۔ روزے، رمضان، صدقات، سود کی حرمت، قرض و لین دین کے اصول اور دعا کی تعلیم بھی دی گئی ہے۔ سورت کا اختتام اللہ سے مغفرت، رحمت اور مدد کی دعا پر ہوتا ہے۔
دوسری تراویح میں تلاوت کی گئی سورۃ آلِ عمران میں بیان کئے گئے مضا مین
سورۃ آلِ عمران مدنی سورت ہے جس میں قرآن کی حقانیت، اہلِ کتاب کے عقائد کی اصلاح، ایمان و عمل کی اہمیت اور مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داریوں کو بیان کیا گیا ہے۔ اس سورت میں نجران کے عیسائی وفد کے ساتھ مکالمہ، حضرت مریم، حضرت زکریا، حضرت یحیٰی اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کے حالات اور عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں عیسائیوں کے غلط عقائد کی تردید کی گئی ہے۔
سورت میں دنیا کی عارضی زندگی کے مقابلے میں آخرت کی کامیابی کو اصل مقصد قرار دیا گیا ہے، مال و اولاد کو فتنہ بتایا گیا اور اللہ و رسول کی اطاعت کو فلاح کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ یہودیوں کی تحریفِ کتاب، انبیاء کے قتل اور دین میں خیانت کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں کو تمام انبیاء پر ایمان لانے، زکوٰۃ و صدقات ادا کرنے اور اتحاد و اتفاق قائم رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔
جنگ بدر اور جنگ اُحد کے واقعات کے ذریعے ثابت قدمی، نظم و ضبط اور قیادت کی اطاعت کی اہمیت واضح کی گئی ہے، اور منافقین کی سازشوں سے خبردار کیا گیا ہے۔ بخل کی مذمت، جہاد میں مال و جان کی قربانی اور دین کی سربلندی کیلئے جدوجہد پر زور دیا گیا ہے۔آخر میں کائنات کی نشانیوں سے توحید کا سبق دیا گیا اور دعا، صبر، اتحاد اور آخرت کی کامیابی کی تعلیم دی گئی ہے۔


بشکریہ روزنامہ پاکستان