Home Uncategorized Iran…..US,Israel War آبنائے ہرمز بحران، سعودی عرب، یو اے ای اور عراق متبادل پائپ لائنز پر انحصار بڑھانے لگےموجودہ بحران نے واضح کر دیا ہے کہ Strait of Hormuz اب بھی عالمی توانائی کے لیے ناگزیر راستہ ہے، جس کا مکمل متبادل فی الحال ممکن نہیں۔

Iran…..US,Israel War آبنائے ہرمز بحران، سعودی عرب، یو اے ای اور عراق متبادل پائپ لائنز پر انحصار بڑھانے لگےموجودہ بحران نے واضح کر دیا ہے کہ Strait of Hormuz اب بھی عالمی توانائی کے لیے ناگزیر راستہ ہے، جس کا مکمل متبادل فی الحال ممکن نہیں۔

عام حالات میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل و گیس سپلائی  آبنائے ہرمزسے گزرتی ہے، جو روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل کے برابر ہے۔.......ماہرین کے مطابق ان تینوں پائپ لائنز کی مجموعی گنجائش تقریباً 90 لاکھ بیرل یومیہ ہے، جو آبنائے ہرمز کے مقابلے میں آدھی سے بھی کم ہے۔ اس لیے یہ مکمل متبادل فراہم نہیں کر سکتیں۔

by Ilmiat

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے بعد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور عراق متبادل پائپ لائنز کے ذریعے تیل برآمد کرنے کی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ پائپ لائنز مکمل متبادل فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں Strait of Hormuz کی بندش اور کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد اس اہم بحری راستے سے جہازوں کی آمد و رفت میں 95 فیصد تک کمی آ چکی ہے۔

عام حالات میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل و گیس سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے، جو روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل کے برابر ہے۔

متبادل راستے: تین بڑی پائپ لائنز

اس بحران کے پیش نظر خلیجی ممالک نے تیل کی ترسیل کے لیے تین اہم پائپ لائنز پر انحصار بڑھانا شروع کر دیا ہے:

1. سعودی عرب کی ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن

Saudi Aramco کے زیرِ انتظام یہ پائپ لائن مشرقی سعودی عرب سے بحیرہ احمر تک جاتی ہے۔

  • گنجائش: تقریباً 70 لاکھ بیرل یومیہ
  • موجودہ استعمال میں نمایاں اضافہ
    تاہم یہ مکمل طور پر آبنائے ہرمز کا متبادل نہیں بن سکتی۔

2. یو اے ای کی ابو ظہبی پائپ لائن

یہ پائپ لائن حبشان سے فجیرہ تک جاتی ہے اور خلیجِ عمان کے راستے تیل برآمد کرنے میں مدد دیتی ہے۔

  • گنجائش: تقریباً 15 لاکھ بیرل یومیہ
  • حالیہ ہفتوں میں برآمدات میں اضافہ دیکھا گیا ہے

3. عراق-ترکی پائپ لائن

یہ پائپ لائن عراق کو ترکی کی بندرگاہ جیہان سے ملاتی ہے۔

  • گنجائش: تقریباً 16 لاکھ بیرل یومیہ
  • موجودہ ترسیل اس سے کہیں کم سطح پر ہے

کیا یہ پائپ لائنز کافی ہیں؟

ماہرین کے مطابق ان تینوں پائپ لائنز کی مجموعی گنجائش تقریباً 90 لاکھ بیرل یومیہ ہے، جو آبنائے ہرمز کے مقابلے میں آدھی سے بھی کم ہے۔ اس لیے یہ مکمل متبادل فراہم نہیں کر سکتیں۔

مزید برآں، یہ پائپ لائنز بھی سیکیورٹی خطرات سے محفوظ نہیں، کیونکہ جاری تنازع کے دوران توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے جانے کا خدشہ موجود ہے۔

علاقائی اور عالمی اثرات

ماہرین کے مطابق اگر صورتحال برقرار رہی تو:

  • عالمی تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے
  • سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے
  • توانائی کے متبادل راستوں پر دباؤ بڑھے گا

اگرچہ سعودی عرب، یو اے ای اور عراق متبادل پائپ لائنز کے ذریعے تیل کی ترسیل جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن موجودہ بحران نے واضح کر دیا ہے کہ Strait of Hormuz اب بھی عالمی توانائی کے لیے ناگزیر راستہ ہے، جس کا مکمل متبادل فی الحال ممکن نہیں۔

You may also like

Leave a Comment