پنجاب یونیورسٹی مرکزِ ترقیِ تہذیب و دیانت کے زیرِ اہتمام تدارکِ انتہاپسندی ودہشت گردی کے عالمی دن کی مناسبت سے خصوصی سیمینار کا انعقاد کیا گیاجس میں وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر محمد علی، چیئرمین شعبہ سیاسیات پروفیسر ڈاکٹر رانا اعجاز،ڈائریکٹر مرکزڈاکٹر شبیر احمدخان،سابق ڈائریکٹر ریسرچ نیکٹا ڈاکٹر دایاب گیلانی،ڈاکٹر محمد شاریح قاضی، فیکلٹی ممبران اور طلباؤطالبات نے شرکت کی۔اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر محمد علی نے پاکستانی معاشرے کو درپیش اُن کمزوریوں کی نشاندہی کی جو انتہاپسندی کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معمولی اور فروعی مسائل میں الجھ کر قومی اتحاد کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ قومی اتفاقِ رائے کے لیے سچے پاکستانی کی سوچ اپنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گروہی، لسانی اور علاقائی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دینا ہی ترقی و استحکام کا راستہ ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہر قسم کی شناخت ایک پاکستانی اور ایک قوم ہونے سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی اور ملکی مفاد کو ذاتی خواہشات پر مقدم رکھنا ہی قوموں کی کامیابی کا راز ہے۔

ماہر سیاسیات ڈاکٹر دایاب گیلانی نے کلیدی مقرر کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے ایک جامع تحقیقی رپورٹ پیش کی، جس میں آٹھ واضح موضوعات کی نشاندہی کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ موضوعات درسی کتب میں موجود پُرتشدد اور انتہاپسندانہ رجحانات کی درجہ بندی اور شناخت میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ نہ صرف نصاب میں موجود خامیوں کو اجاگر کرتی ہے بلکہ اصلاحِ نصاب کے لیے ٹھوس بنیاد بھی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مجوزہ سفارشات کی روشنی میں نصاب میں بامعنی اور مؤثر اصلاحات کی جائیں گی، کیونکہ ماضی میں کی گئی تبدیلیاں زیادہ تر سطحی نوعیت کی رہی ہیں۔اختتام پر شرکاء نے ڈائریکٹر مرکزِ ترقیِ تہذیب و دیانت، ڈاکٹر شبیر احمد خان کو تدارکِ انسدادِ انتہا پسندی و تشدد کے عالمی دن کے موقع پر کامیاب اور مؤثر سیمینار کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی۔