ٹائمز ہائر ایجوکیشن (THE) کی جانب سے جاری کردہ ورلڈ یونیورسٹی رینکنگز بائے سبجیکٹ 2026 نے عالمی اعلیٰ تعلیم میں بدلتے ہوئے رجحانات کو نمایاں کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایشیائی جامعات نے جہاں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کے شعبوں میں اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھی ہے، وہیں انسانیات، سماجی علوم، قانون اور تعلیم جیسے شعبوں میں بھی غیر معمولی تیز رفتار ترقی دکھائی ہے۔
رپورٹ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگرچہ امریکہ اور برطانیہ بدستور کئی مضامین میں سرفہرست ہیں، تاہم ایشیا کی جامعات اب یورپ اور شمالی امریکہ کے مقابلے میں سماجی علوم اور انسانیات میں زیادہ تیزی سے اوپر آ رہی ہیں، جو عالمی تعلیمی طاقت کے توازن میں ایک بڑی تبدیلی کا عندیہ ہے۔

🏆 عالمی سطح پر سرفہرست جامعات
رینکنگز کے مطابق مختلف مضامین میں درج ذیل جامعات نے پہلی پوزیشن حاصل کی:
-
MIT (امریکہ): آرٹس و ہیومینٹیز، بزنس و اکنامکس اور سوشل سائنسز
-
ہارورڈ یونیورسٹی: انجینئرنگ اور لائف سائنسز
-
اسٹینفورڈ یونیورسٹی: تعلیم اور قانون
-
آکسفورڈ یونیورسٹی (برطانیہ): کمپیوٹر سائنس اور میڈیکل اینڈ ہیلتھ
-
کیمبرج یونیورسٹی: نفسیات
ہارورڈ، اسٹینفورڈ اور کیمبرج وہ واحد جامعات ہیں جو تمام 11 مضامین کی ٹاپ 10 فہرست میں شامل رہیں۔
📈 ایشیا کی نمایاں پیش رفت
رپورٹ کے مطابق ایشیائی جامعات نے کئی شعبوں میں غیر معمولی بہتری دکھائی:
-
چین نے کمپیوٹر سائنس، انجینئرنگ اور فزیکل سائنسز میں ٹاپ 10 میں نئی جگہیں حاصل کیں
-
پیکنگ یونیورسٹی کمپیوٹر سائنس میں 10ویں اور انجینئرنگ میں 8ویں نمبر پر پہنچ گئی
-
نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور پہلی بار لائف سائنسز میں ٹاپ 20 میں شامل ہوئی
-
ایشیا کی 47 فیصد جامعات نے قانون، 32 فیصد نے تعلیم اور 29 فیصد نے آرٹس و ہیومینٹیز میں اپنی رینکنگ بہتر کی
ماہرین کے مطابق یہ رجحان اس بات کا ثبوت ہے کہ ایشیائی تعلیمی نظام اب صرف STEM تک محدود نہیں رہے بلکہ سماجی و فکری علوم میں بھی منظم اور سنجیدہ سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
🎓 ماہرین کی آرا
ہیروشیما یونیورسٹی کے پروفیسر فوتاؤ ہوانگ کے مطابق:
“ایشیا میں سائنسی ترقی کی رفتار نسبتاً سست ہوئی ہے، مگر اسی دوران قانون، تعلیم اور انسانیات میں بڑھتی سرمایہ کاری نے ان شعبوں میں تیز رفتار بہتری کو جنم دیا ہے۔”
بوسٹن کالج کے پروفیسر فلپ آلٹ باخ کا کہنا ہے:
“عالمی اعلیٰ تعلیم اب کثیر قطبی (Multipolar) نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں مغربی دنیا کی بالادستی بتدریج کم ہو رہی ہے، جو تعلیمی ترقی کے لیے ایک مثبت رجحان ہے۔”
🇵🇰 پاکستان، HEC اور عالمی رینکنگ کا خلا
پاکستانی تناظر میں یہ رپورٹ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور مقامی جامعات کے لیے ایک سنجیدہ سوالیہ نشان بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ عالمی سبجیکٹ رینکنگز میں پاکستانی جامعات کی محدود موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ:
-
HEC کی پالیسی ترجیحات اب بھی زیادہ تر سائنسی و تکنیکی شعبوں تک محدود ہیں
-
قانون، تعلیم، سیاسیات، معاشیات اور سماجیات میں تحقیقی سرمایہ کاری ناکافی ہے
-
بین الاقوامی معیار کی اشاعت (High-impact publications) اور عالمی اشتراک کمزور ہیں
-
پی ایچ ڈی طلبہ اور فیکلٹی کی تحقیق عالمی رینکنگ کے تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں
📊 ایشیائی ماڈل اور پاکستان کے لیے سبق
چین، سنگاپور اور جنوبی کوریا جیسے ممالک میں:
-
سماجی علوم میں ادارہ جاتی فنڈنگ
-
بین الاقوامی جرائد میں اشاعت کی حوصلہ افزائی
-
اور فیکلٹی کی عالمی سطح پر تربیت
نے عالمی رینکنگ میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر پاکستان بھی اسی طرز پر HEC کے تحقیقی فریم ورک کو وسعت دے تو آئندہ دہائی میں مقامی جامعات کے لیے عالمی سطح پر ابھرنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
🔮 مستقبل کا راستہ
ورلڈ یونیورسٹی رینکنگز بائے سبجیکٹ 2026 واضح کرتی ہیں کہ عالمی اعلیٰ تعلیم اب مغربی اجارہ داری سے نکل کر کثیر قطبی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اگر پاکستان بروقت پالیسی اصلاحات، سماجی علوم میں سرمایہ کاری اور تحقیقی معیار کو ترجیح دے تو یہ تبدیلی ملک کے لیے تعلیمی بحالی کا موقع بن سکتی ہے—بصورت دیگر عالمی تعلیمی دوڑ میں فاصلہ مزید بڑھنے کا خدشہ رہے گا۔