کئی برسوں کی غیر موجودگی—جس کی وجہ احتیاط اور ماضی کی یادیں تھیں—کے بعد
سنت ایک بار پھر لاہور میں 6 سے 8 فروری تک ایک مکمل منظم اور حکومتی سرپرستی میں منعقد ہونے والے تہوار کی صورت میں واپس آ رہی ہے۔ یہ اقدام جنوبی ایشیا کی معروف ثقافتی روایات میں سے ایک کو بحال کرنے کی علامت ہے۔ عالمی سطح پر بسنت کی بحالی محض موسمِ بہار کی خوشی نہیں بلکہ اس بات کا اعلان بھی ہے کہ پنجاب دوبارہ ایک ایسے ثقافتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے جہاں زندہ ورثہ، تخلیقی اظہار اور اجتماعی زندگی ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی منظوری سے ہونے والا یہ تین روزہ ایونٹ ثقافتی نظم و نسق (Cultural Governance) کا ایک جدید تصور پیش کرتا ہے، جس میں حفاظت، شمولیت اور ثقافتی شناخت سازی کو یکجا کیا گیا ہے۔

تقریباً 800 سال سے بسنت پنجاب میں بہار کی آمد کی علامت رہی ہے، جو تازگی، نئی زندگی اور اجتماعی خوشی کی نمائندگی کرتی ہے۔ پنجاب ہمیشہ سے جنوبی ایشیا کا ایک اہم ثقافتی سنگم رہا ہے، جہاں تہوار، موسیقی، دستکاری اور رسومات نے ایک مشترکہ ثقافتی نظام تشکیل دیا۔ لاہور، جو پنجاب کا تاریخی دارالحکومت ہے، شاعری، فنِ تعمیر، کھانوں اور موسمی تقریبات کے باعث ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے، جہاں یہ روایات معاشرتی ہم آہنگی کو مضبوط کرتی تھیں۔ بسنت، آسمان پر رنگ برنگی پتنگوں کے ساتھ، زندہ ثقافتی ورثے (Living Heritage) کی شکل اختیار کر گئی اور پنجاب کی شناخت کی ایک نمایاں علامت بنی۔ اس کی طویل غیر موجودگی نے خاص طور پر نئی نسل میں ایک ثقافتی خلا پیدا کیا اور عالمی سطح پر لاہور کی ثقافتی شناخت کو بھی کمزور کیا۔
بسنت کی بحالی کا فیصلہ علامتی اور حکمتِ عملی کے لحاظ سے اہم ہے۔ یہ ثقافت کو دبانے کے بجائے اسے منظم اور محفوظ انداز میں چلانے (Culture Management) کی طرف ایک تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے، جس کی حمایت عالمی ثقافتی پالیسی میں بھی بڑھ رہی ہے۔ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس بحالی کو عوامی خوشی اور ثقافتی انصاف قرار دیا۔ ان کے مطابق پنجاب کی روایات برسوں سے نظر انداز ہوتی رہیں اور اصلاحات کے بجائے خوف نے جگہ لے لی۔ ان کا وژن ثقافت کو معاشرتی ڈھانچے (Social Infrastructure) کا حصہ قرار دیتا ہے، جو جذباتی صحت اور سماجی مضبوطی کے لیے ضروری ہے۔ ایسے معاشروں میں جہاں معاشی اور نفسیاتی دباؤ زیادہ ہو، بسنت جیسے تہوار لوگوں کو محفوظ ماحول میں میل جول اور تفریح کے مواقع فراہم کرتے ہیں، یوں ثقافت ایک ضرورت بن جاتی ہے، عیاشی نہیں۔
اس بحالی میں شمولیت کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ پنجاب اپنی تمام برادریوں کا ہے اور ہر طبقے کو اپنے تہوار آزادانہ طور پر منانے کا حق ہے، چاہے وہ عید، ہولی، کرسمس یا رمضان ہو۔ یہ نقطہ نظر بسنت کو ثقافتی تنوع اور مشترکہ ورثے کی بڑی کہانی میں شامل کرتا ہے اور پنجاب کی تاریخی شناخت کو ایک کھلے اور متنوع معاشرے کے طور پر نمایاں کرتا ہے۔ تین دہائیوں بعد ہارس اینڈ کیٹل شو کی بحالی اس بات کی مثال ہے کہ پرانے تہوار جدید طرزِ حکمرانی کے ذریعے عوامی تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے بھی دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔
ماضی میں غیر محفوظ پتنگ بازی سے جڑے المناک واقعات کے پیش نظر انتظامیہ نے عالمی معیار کے مطابق خطرات کم کرنے (Risk Mitigation) کا ایک مکمل فریم ورک اپنایا ہے۔ بسنت سیفٹی پلان کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جس میں زون بندی، مواد کی پابندیاں اور سخت نفاذ شامل ہیں۔ لاہور کو ریڈ، یلو اور گرین زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ صرف نو دھاگوں والی سوتی ڈور کی اجازت ہوگی جبکہ نائلون اور دھاتی ڈور پر مکمل پابندی عائد ہے۔ خلاف ورزی پر سخت سزائیں دی جائیں گی، جن میں قید اور بھاری جرمانے شامل ہیں۔ مقررہ تاریخوں کے علاوہ غیر قانونی پتنگ بازی بھی قابلِ سزا ہوگی، اور کم عمر افراد کی خلاف ورزی کی صورت میں والدین یا سرپرست کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ یہ اقدامات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ ماضی کے حادثات کو روکنے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔

مزید حفاظتی اقدامات میں پتنگ کی چرخی پر پابندی شامل ہے اور صرف ہاتھ سے پکڑی جانے والی ریل کی اجازت ہوگی، جبکہ پتنگ کے سائز کے لیے بھی مقررہ معیار طے کیا گیا ہے۔ موٹر سائیکل سوار، جو بسنت کے دوران ہمیشہ زیادہ خطرے میں رہے ہیں، ان کے تحفظ کے لیے حکومت دس لاکھ موٹر سائیکلوں پر مفت حفاظتی راڈ نصب کرے گی۔ خطرناک زونز میں داخلہ صرف انہی موٹر سائیکلوں کو دیا جائے گا جن پر یہ راڈ لگے ہوں، جبکہ خلاف ورزی پر جرمانہ ہوگا۔ شہریوں کو بھی ترغیب دی گئی ہے کہ وہ خلاف ورزیوں کی اطلاع دے کر کمیونٹی سطح پر نگرانی میں کردار ادا کریں، تاکہ اجتماعی ذمہ داری اور شہری شعور کو فروغ دیا جا سکے۔
تیاریوں کا دائرہ کار حکومتی سنجیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔ 2,150 سے زائد مینوفیکچررز، تاجروں اور دکانداروں کو رجسٹر کیا گیا ہے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو باقاعدہ اور منظم بنایا جا سکے۔ یہ اقدام بسنت کو “Creative Economy” کے عالمی تصور سے جوڑتا ہے، جہاں ثقافت کو شناخت کے ساتھ ساتھ روزگار کا ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت لاہور کی اورنج لائن، میٹرو بس، الیکٹرک بسیں اور فیڈر سروسز پر مفت سفر فراہم کیا جائے گا، جبکہ اضافی بسوں اور رائیڈ ہیلنگ سہولت کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ موٹر سائیکلوں پر انحصار کم کرکے اور معاشی رکاوٹیں گھٹا کر یہ منصوبہ رسائی اور پائیداری کو فروغ دیتا ہے، جو جدید شہری ثقافتی منصوبہ بندی کے اہم اصول ہیں۔
سیکیورٹی اور ہنگامی انتظامات بھی اس منصوبے کا اہم حصہ ہیں۔ ہزاروں پولیس اہلکاروں کے ساتھ بلدیاتی عملہ تعینات ہوگا، جبکہ ریسکیو سروسز، فائر بریگیڈ، ایمبولینس اور صحت کے ادارے مربوط حکمت عملی کے تحت کام کریں گے۔ چوبیس گھنٹے کنٹرول رومز، سی سی ٹی وی نگرانی اور ڈرون مانیٹرنگ کے ذریعے صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جائے گی تاکہ فوری ردعمل ممکن ہو۔ یہ انتظامات بسنت کو محض علامتی جشن نہیں بلکہ ایک منظم شہری آپریشن کی صورت دیتے ہیں۔
اتنا ہی اہم کردار ذمہ دار میڈیا اور درست بیانیے کا بھی ہے۔ ڈیجیٹل دور میں ثقافتی تقریبات غلط معلومات اور افواہوں کی زد میں آ سکتی ہیں جو عوامی رائے کو متاثر کرتی ہیں۔ پنجاب حکومت نے میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ حقائق پر مبنی اور تعمیری رپورٹنگ کرے تاکہ فیک نیوز کا سدباب ہو اور عوام کا اعتماد قائم رہے۔ متوازن رپورٹنگ نہ صرف مقامی اعتماد کے لیے ضروری ہے بلکہ عالمی سطح پر حکمرانی کی صلاحیت اور سماجی سنجیدگی کا تاثر بنانے میں بھی مدد دیتی ہے۔

جشن کے علاوہ بسنت ثقافتی سفارت کاری اور سافٹ پاور کے لیے بھی ایک واضح موقع فراہم کرتی ہے۔ دیسی ثقافت، اگر محفوظ اور مستند انداز میں پیش کی جائے، تو سیاحت، بیرون ملک پاکستانیوں کی وابستگی اور بین الاقوامی ثقافتی تبادلے کے ذریعے عالمی سطح پر بہت کشش رکھتی ہے۔ ایک کامیاب اور محفوظ بسنت نہ صرف آمدن میں اضافہ کر سکتی ہے بلکہ ورثے پر مبنی ترقی کو تقویت دے کر لاہور کو تجرباتی ثقافت (Experiential Culture) کے بہترین مرکز کے طور پر دوبارہ متعارف کرا سکتی ہے، جو خطے سے متعلق منفی تاثر کا مثبت متبادل بن سکتی ہے۔
یاس تہوارکا 6 فروری کی رات آغاز کیا جائے گا، جبکہ باقاعدہ تقریبات 7 فروری سے شروع ہوں گی۔ اگر منصوبہ بندی کے مطابق اس پر عمل ہوا تو بسنت 2026 غیر محسوس ثقافتی ورثے (Intangible Cultural Heritage) کو ذمہ دار حکمرانی کے ذریعے بحال کرنے کی ایک مثالی مثال بن سکتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ پنجاب کو جنوبی ایشیا کے ثقافتی دل کے طور پر دوبارہ ثابت کرتی ہے—جہاں روایت، جدت اور شمولیت مل کر مشترکہ خوشی، شہری فخر اور عالمی ثقافتی اعتماد کو جنم دیتے ہیں۔