غزہ کے شمالی علاقے بیت لاہیہ میں فلسطینی بچے تعلیم کے حصول کے لیے نشانہ بازوں کے خطرے کے باوجود خیمہ اسکولوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کے قریب واقع خطرناک “ییلو زون” میں قائم ان عارضی تعلیمی مراکز کے بارے میں یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل جنگی صدمہ بچوں کی ذہنی اور جذباتی نشوونما پر گہرے منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔جنگ کے باعث غزہ کا تعلیمی ڈھانچہ بڑے پیمانے پر تباہ ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں بے گھر خاندانوں نے کھلے اور غیر محفوظ علاقوں میں خیمہ اسکول قائم کر لیے ہیں۔ ان اسکولوں میں نہ تو مناسب تحفظ موجود ہے اور نہ ہی بنیادی سہولیات، تاہم اس کے باوجود بچے تعلیم جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

سات سالہ تولین، جو دو برس بعد دوبارہ اسکول جا رہی ہے، فائرنگ اور گولہ باری کے خوف کے سائے میں خیمے میں تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ اس کی والدہ کا کہنا ہے کہ بیٹی کے اسکول پہنچنے تک دل مسلسل خوف میں مبتلا رہتا ہے، مگر وہ نہیں چاہتیں کہ حالات بچوں کے مستقبل کو مزید تاریک کر دیں۔اساتذہ کے مطابق نشانہ بازوں کی فائرنگ کے باعث کلاسیں بارہا متاثر ہوتی ہیں اور بچوں کو زمین پر لیٹنے کی ہدایات دی جاتی ہیں تاکہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ اس کے باوجود تعلیمی عمل جاری رکھا جا رہا ہے، جسے اساتذہ “جہالت کے مقابل علم کی مزاحمت” قرار دیتے ہیں۔
یونیسف کے مطابق غزہ کی پٹی میں 98 فیصد اسکول کسی نہ کسی درجے میں تباہ ہو چکے ہیں جبکہ 88 فیصد اداروں کو مکمل بحالی یا ازسرِنو تعمیر کی ضرورت ہے۔ ادارے کے ترجمان کاظم ابو خلف کا کہنا ہے کہ تقریباً 6 لاکھ 38 ہزار اسکول جانے کی عمر کے بچے اور 70 ہزار کم عمر بچے دو مکمل تعلیمی سال ضائع کر چکے ہیں اور اب محرومی کے تیسرے سال میں داخل ہو رہے ہیں۔

یونیسف اور شراکت دار اداروں نے اگرچہ 109 عارضی تعلیمی مراکز قائم کیے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق بچوں میں شدید نفسیاتی صدمے، ذہنی تنزلی اور گویائی کے مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ صورتحال کو مزید سنگین بنانے والا عنصر تعلیمی مواد کی قلت ہے، کیونکہ اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ میں تقریباً کوئی درسی سامان داخل نہیں ہونے دیا گیا۔
یونیسف نے دو لاکھ بچوں کے لیے “واپسی برائے تعلیم” مہم شروع کرنے کی تیاری کر لی ہے، تاہم ادارے نے واضح کیا ہے کہ اس مہم کی کامیابی اسرائیلی پابندیوں کے خاتمے سے مشروط ہے۔