تحریر: کم مارٹن
2025 آسٹریلیا کے بین الاقوامی تعلیمی شعبے کے لیے اصلاحات، پالیسی مباحث اور خود احتسابی کا سال رہا۔ ذیل میں وہ دس اہم خبریں پیش کی جا رہی ہیں جنہوں نے اس شعبے کی سمت اور مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کیے:
1۔ انتخابی نتائج: تسلسل کے ساتھ نئے سوالات
آسٹریلیا کے وفاقی انتخابات میں انتھونی البانیزی نے لیبر حکومت کی دوسری مدت حاصل کر لی۔ اس نتیجے سے حکومت کی تبدیلی سے متعلق بے یقینی تو ختم ہوئی، خصوصاً اپوزیشن کی جانب سے بین الاقوامی طلبہ پر مجوزہ پابندیوں اور زیادہ ویزا فیس کے خدشات کم ہوئے، تاہم شعبے میں یہ سوالات شدت اختیار کر گئے کہ پالیسی میں تسلسل عملی طور پر کیا صورت اختیار کرے گا۔ اس نتیجے کے بعد پالیسی کے رخ، استحکام اور ممکنہ سختیوں پر نئی بحث شروع ہو گئی۔
2۔ جولین ہل کو بین الاقوامی تعلیم کا قلمدان
جولائی میں جولین ہل کو اسسٹنٹ وزیر برائے بین الاقوامی تعلیم مقرر کیا گیا، جس سے شعبے کو پہلی بار ایک واضح سیاسی قیادت میسر آئی۔ انہوں نے ویزا پالیسی اور تعمیل کے معاملات میں شعبے کی “ساکھ” کے تحفظ پر زور دیا اور مختلف صنعتی تقریبات میں فعال شرکت کے ذریعے اسٹیک ہولڈرز سے رابطے مضبوط کیے۔

3۔ پرتھ انٹرنیشنل کالج آف انگلش کی بندش
2025 میں کئی تعلیمی ادارے بند ہوئے، مگر پرتھ انٹرنیشنل کالج آف انگلش کی بندش ایک علامتی واقعہ بن گئی۔ بڑھتی ہوئی ویزا فیس اور سخت پالیسیوں کے باعث خاص طور پر ELICOS شعبے میں چھوٹے اداروں کی کمزور حیثیت واضح ہو گئی۔
4۔ طلبہ ویزا فیس 2,000 آسٹریلین ڈالر
سال کی سب سے زیادہ زیرِ بحث تبدیلی طلبہ ویزا فیس کو بڑھا کر 2,000 آسٹریلین ڈالر کرنا تھا، جس کے بعد آسٹریلیا دنیا کا مہنگا ترین اسٹوڈنٹ ویزا فراہم کرنے والا ملک بن گیا۔ اس فیصلے پر مسابقت، طلبہ کی دلچسپی اور خاص طور پر قلیل مدتی کورسز پر منفی اثرات کے خدشات ظاہر کیے گئے۔
5۔ نئے اعلیٰ تعلیمی نگران ادارے کی جانب پیش رفت
حکومت نے آسٹریلین ٹرشری ایجوکیشن کمیشن (ATEC) کے قیام کے لیے قانون سازی متعارف کرائی۔ جولائی 2025 سے اس نے عبوری طور پر کام شروع کر دیا، جبکہ 2026 میں مکمل فعالیت متوقع ہے۔ یہ ادارہ بین الاقوامی تعلیم سمیت اعلیٰ تعلیم کی منصوبہ بندی اور نگرانی کو یکجا کرے گا۔
6۔ بین الاقوامی طلبہ کی حد 295,000 تک بڑھا دی گئی
حکومت نے بین الاقوامی طلبہ کے داخلوں کی حد بڑھا کر 2 لاکھ 95 ہزار کر دی، جس سے جامعات اور تعلیمی اداروں کو کچھ ریلیف ملا، تاہم طویل المدتی نظم و نسق اور فوائد کی تقسیم پر سوالات برقرار رہے۔
7۔ PIE Live Asia Pacific 2025: قیادت پر روشنی
PIE Live Asia Pacific 2025 کانفرنس نے شعبے کے رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا، جہاں پالیسی، رجحانات اور مستقبل پر گفتگو ہوئی۔ لائف ٹائم امپیکٹ ایوارڈز نے اُن شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے دہائیوں تک بین الاقوامی تعلیم کو فروغ دیا۔
8۔ “منظم” دور میں آسٹریلیا کی مسابقت؟
سال کے مقبول ترین تجزیاتی مضامین میں یہ سوال نمایاں رہا کہ کیا آسٹریلیا بین الاقوامی طلبہ کی تعداد کو سختی سے کنٹرول کرتے ہوئے عالمی مسابقت برقرار رکھ سکتا ہے؟ اس بحث نے ضابطہ کاری، ساکھ اور مارکیٹ حقیقت کے درمیان کشمکش کو اجاگر کیا۔
9۔ نیا ویزا پروسیسنگ ڈائریکٹو
سال کے آخر میں وزیرانہ ہدایت 111 کو ختم کر کے نئی ہدایت (MD 115) نافذ کی گئی۔ اگرچہ مقصد شفافیت اور کارکردگی بہتر بنانا تھا، مگر نئی ہدایات بڑی حد تک سابقہ نظام سے مماثل رہیں، البتہ کچھ اہم تبدیلیاں متعارف کرائی گئیں۔
10۔ تعلیمی اصلاحات کی پارلیمانی منظوری
سال کے اختتام پر تعلیمی اصلاحات پارلیمنٹ سے منظور ہو گئیں، جن میں ایجوکیشن ایجنٹس کی قانونی تعریف میں توسیع اور وزیر کے اختیارات میں اضافہ شامل ہے۔ اگرچہ اصلاحات کا مقصد نظام کی ساکھ بہتر بنانا تھا، تاہم عملی نفاذ پر شعبے کی نظریں مرکوز ہیں۔
مجموعی جائزہ:
2025 آسٹریلیا کے بین الاقوامی تعلیمی شعبے کے لیے تبدیلی، بحث اور فیصلہ سازی کا سال ثابت ہوا۔ آنے والا وقت یہ طے کرے گا کہ یہ اصلاحات اور پالیسی اقدامات عالمی سطح پر آسٹریلیا کی تعلیمی حیثیت کو مضبوط بناتے ہیں یا نئے چیلنجز کو جنم دیتے ہیں۔