ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ لوگ دوسروں کو تو اخلاقیات کا بھاری سبق دیتے ہیں لیکن جب خود پر وقت آتا ہے تو انہی اصولوں کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں۔ عام طور پر اسے بدکرداری سمجھا جاتا ہے، لیکن جدید ترین سائنسی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ اس “منافقت” کی جڑیں انسان کے دماغی نظام میں چھپی ہوئی ہیں۔
چین کی ‘یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی’ کے محققین کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق (جو معروف جریدے Cell Reports میں شائع ہوئی) کے مطابق، جو لوگ دوسروں کے برے عمل پر تو تنقید کرتے ہیں مگر خود وہی کام کرتے ہیں، ان کے دماغ کا ایک مخصوص حصہ سست پڑ جاتا ہے۔
دماغ کا یہ حصہ، جسے سائنسی زبان میں vmPFC کہا جاتا ہے، انسان کو اپنے ذاتی فائدے اور اخلاقی اصولوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
دماغی اسکین کے حیران کن نتائج
تحقیق کے دوران جب 58 افراد کے دماغی اسکین (fMRI) کیے گئے، تو معلوم ہوا کہ:
-
جب لوگ دوسروں کے فیصلوں کا جائزہ لے رہے تھے، تو وہ صرف سچ اور جھوٹ کو دیکھ رہے تھے۔
-
لیکن جب باری ان کے اپنے فائدے کی آئی، تو وہ لالچ میں آ گئے اور اخلاقیات کو پسِ پشت ڈال دیا۔
سائنسدانوں نے دیکھا کہ منافقانہ رویہ دکھانے والے افراد کے دماغ میں معلومات کا درست تبادلہ نہیں ہو پا رہا تھا۔ یعنی وہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی اپنے دماغی خلیات کے کمزور رابطے کی وجہ سے اپنے اصولوں پر خود عمل نہیں کر پا رہے تھے۔

برقی لہروں سے منافقت میں اضافہ
تحقیق کو مزید پختہ کرنے کے لیے سائنسدانوں نے ایک اور تجربے میں کچھ رضاکاروں کے دماغ کے اس مخصوص حصے کو معمولی برقی لہریں (Electrical Stimulation) دے کر سست کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان لوگوں میں منافقانہ رویہ اور دوغلا پن پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گیا۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اخلاقی اصولوں پر سختی سے کاربند رہنا کوئی خودکار عمل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مہارت (Skill) ہے جسے انسان مسلسل مشق اور شعوری فیصلوں سے بہتر بنا سکتا ہے۔
کیا منافقت کو بدلا جا سکتا ہے؟
تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر ژیاؤ چو ژانگ کا کہنا ہے کہ “اخلاقی مستقل مزاجی ایک ایسی مہارت ہے جسے شعوری فیصلوں کے ذریعے مضبوط کیا جا سکتا ہے۔” سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر دماغ کے اس حصے کو متحرک کر کے لوگوں کے اخلاقی رویے میں تبدیلی پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ منافق لوگ شاید اخلاقی اصولوں سے ناواقف نہیں ہوتے، بلکہ ان کا دماغ ان اصولوں کو اپنے ذاتی اعمال پر لاگو کرنے میں حیاتیاتی طور پر ناکام رہتا ہے۔