Home مضامین جسمانی سرگرمی، بچوں کے رویے ذہنی،  اور تعلیمی نشوونما: ایک جامع مطالعہ

جسمانی سرگرمی، بچوں کے رویے ذہنی،  اور تعلیمی نشوونما: ایک جامع مطالعہ

حقیق سے معلوم ہوا ہے کہ حرکت نہ کرنے کی صورت میں بچوں کے مزاج، توجہ اور رویّے میں گراوٹ آ سکتی ہے۔ جسمانی سرگرمی دماغی افعال کو متحرک کرتی ہے اور ایگزیکٹو فنکشن کو مضبوط بناتی ہے،

by Ilmiat

جسمانی سرگرمی بچوں کی ہمہ جہت نشوونما میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔میلیسا ہوگن بوم کے مطابق یہ نہ صرف جسمانی صحت اور ذہنی فلاح و بہبود کو بہتر بناتی ہے بلکہ بچوں میں ایسی اہم ذہنی، رویّتی اور جذباتی صلاحیتیں بھی پیدا کرتی ہے جو کلاس روم میں مؤثر سیکھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ جدید تعلیمی تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ حرکت اور کھیل بچوں کی تعلیمی کارکردگی، توجہ، خود پر قابو اور جذباتی توازن کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔

7,000+ Kids Gymnastics Stock Illustrations, Royalty-Free Vector Graphics & Clip Art - iStock | Gymnastics, Preschool gymnastics, Toddler gymnastics

حرکت اور سیکھنے کا باہمی تعلق

استاد اس حقیقت سے واقف ہے کہ بچے جب جسمانی طور پر متحرک رہتے ہیں تو وہ تعلیمی سہر رگرمیوں میں زیادہ دلچسپی اور بہتر رویّہ ظاہر کرتے ہیں۔ اسی لیے ابتدائی عمر کے تعلیمی اداروں میں فعال کھیل کے وقفے رکھے جاتے ہیں۔ ت جس میں توجہ، ورکنگ میموری اور خود پر قابو جیسی صلاحیتیں شامل ہیں۔ یہی صلاحیتیں بچوں کو ہدایات پر عمل کرنے، غیر ضروری خلل سے بچنے اور سیکھنے کے عمل میں یکسو رہنے میں مدد دیتی ہیں۔

ایگزیکٹو فنکشن اور تعلیمی کامیابی

تحقیق سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جن بچوں کی ایگزیکٹو فنکشن کی صلاحیتیں مضبوط ہوتی ہیں، وہ ریاضی اور خواندگی جیسے مضامین میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں، جبکہ کمزور ایگزیکٹو فنکشن رکھنے والے بچے عموماً تعلیمی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ ایک تحقیق میں یہ سامنے آیا کہ پری اسکول کے بچوں کی ایگزیکٹو فنکشن سے متعلق کارکردگی صرف بارہ منٹ کے ایک سادہ فریز ڈانس گیم کے فوراً بعد بہتر ہو گئی۔ اس کھیل میں بچوں کو موسیقی کے مطابق حرکت کرنا، قواعد یاد رکھنا، بروقت رک جانا اور درست ردِعمل دینا پڑتا ہے، جو ذہنی طور پر نہایت متحرک سرگرمی ہے۔

Kids fitness games kids Vectors - Download Free High-Quality Vectors from Freepik | Freepik

جسمانی سرگرمی اور خود نظم و ضبط

جسمانی سرگرمی بچوں میں خود نظم و ضبط (Self-Regulation) کو فروغ دیتی ہے، جو دو بنیادی اقسام پر مشتمل ہے:

  1. رویّتی نظم و ضبط — اپنے اعمال کو قابو میں رکھنا، جیسے کلاس میں ہاتھ کھڑا کر کے بولنا۔

  2. جذباتی نظم و ضبط — اپنے جذبات کو مناسب انداز میں سنبھالنا، جیسے اختلاف کے باوجود جھگڑے سے بچنا۔

چار ہزار سے زائد بچوں پر کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ سات سالہ بچوں میں جسمانی سرگرمی بہتر جذباتی نظم و ضبط سے منسلک تھی، جو ریاضی اور خواندگی میں اعلیٰ اسکور کا سبب بنی۔ جبکہ گیارہ سالہ بچوں میں جسمانی سرگرمی بہتر رویّتی نظم و ضبط کے ساتھ جڑی ہوئی تھی، جو مجموعی تعلیمی کامیابی میں اضافے کا باعث بنی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف عمروں میں جسمانی سرگرمی خود نظم و ضبط کی مختلف جہتوں کو متاثر کرتی ہے۔

کم وسائل رکھنے والے بچوں کے لیے خصوصی اہمیت

کووِڈ-19 کے دوران اسکولوں کی بندش نے بچوں کی جسمانی سرگرمی میں نمایاں کمی پیدا کی، جس کا سب سے زیادہ نقصان کم وسائل رکھنے والے بچوں کو ہوا، کیونکہ انہیں محفوظ کھیل کے مقامات تک محدود رسائی حاصل تھی۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جسمانی سرگرمی اور نظم و ضبط کی صلاحیتوں کے درمیان تعلق محروم پس منظر کے بچوں میں زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کھیل اور جسمانی سرگرمیاں تعلیمی عدم مساوات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

Vector Illustration Of Happy Kids Playing In The Playground. Royalty Free SVG, Cliparts, Vectors, and Stock Illustration. Image 95282949.

کھیل، رقص اور عملی سرگرمیاں

اساتذہ اور والدین بچوں کی عمر کے مطابق کھیلوں کو تعلیمی اور گھریلو ماحول کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ ابتدائی عمر میں میوزیکل چیئرز اور میوزیکل اسٹیچوز جیسے کھیل بچوں کو جذبات پر قابو، انتظار اور ناکامی کو برداشت کرنا سکھاتے ہیں۔ باہمی تعاون پر مبنی کھیل، جن میں بچے مل کر کسی مقصد کو حاصل کرتے ہیں، جذباتی توازن اور سماجی مہارتوں کو فروغ دیتے ہیں۔

نوجوانی میں داخل ہونے والے بچوں کے لیے منظم کھیل، جیسے نیٹ بال یا دیگر ٹیم اسپورٹس، رویّتی نظم و ضبط، قواعد کی پابندی اور توجہ برقرار رکھنے کی مشق فراہم کرتے ہیں۔ کھیل کے میدان میں سیکھی گئی یہ صلاحیتیں اکثر کلاس روم میں بھی منتقل ہو جاتی ہیں۔

جسمانی سرگرمی بچوں کی ذہنی، جذباتی اور رویّتی نشوونما کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ یہ ایگزیکٹو فنکشن اور خود نظم و ضبط کو مضبوط بنا کر تعلیمی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے، خصوصاً اُن بچوں کے لیے جو سماجی و معاشی طور پر محروم پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر اسکول اور والدین باقاعدہ، بامقصد اور دلچسپ جسمانی سرگرمیوں کو بچوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیں تو نہ صرف صحت مند بچے بلکہ بہتر سیکھنے والا معاشرہ بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

You may also like

Leave a Comment