برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند ہزاروں پاکستانی طلبہ کو یو کے ویزاز اینڈ امیگریشن (UKVI) کی جانب سے ویزا فیصلوں میں غیر معمولی تاخیر کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ جنوری/فروری 2026 کے انٹیک کے لیے درخواست دینے والے متعدد طلبہ نے دسمبر 2025 میں بائیومیٹرکس مکمل کیے، تاہم مقررہ مدت کے باوجود ویزا فیصلے موصول نہ ہونے سے ان کے تعلیمی منصوبے متاثر ہوئے۔
پائی نیوز مین شائع ہونے محمد رضوان طارق کی رپورٹ کے مطابق کئی طلبہ نے برطانیہ کی معروف جامعات سے کنفرمیشن آف ایکسیپٹنس فار اسٹڈیز (CAS) حاصل کی اور بھاری فیسیں بھی ادا کیں، مگر ویزا تاخیر کے باعث اندراج کی آخری تاریخ گزر گئی اور جامعات کو رجسٹریشن بند کرنا پڑی۔ نتیجتاً طلبہ کو ویزا درخواستیں واپس لینا پڑیں، جس سے انہیں ویزا فیس، ترجیحی سروس چارجز، سفری اخراجات اور بعض صورتوں میں یونیورسٹی ڈپازٹس کا نقصان اٹھانا پڑا۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ بار بار ادا شدہ انکوائری کرنے کے باوجود انہیں صرف خودکار یا عمومی جوابات ملے، جس سے غیر یقینی صورتحال اور ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوا۔ ماہرین کے مطابق ویزا پراسیسنگ نظام میں شفافیت اور جوابدہی کا فقدان ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، جو نہ صرف طلبہ بلکہ برطانیہ کی تعلیمی ساکھ کو بھی متاثر کر رہا ہے۔

تعلیمی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ویزا فیصلوں میں شفافیت، بروقت کارروائی اور مؤثر شکایتی نظام متعارف کرایا جائے تاکہ طلبہ کا قیمتی وقت اور مستقبل انتظامی تاخیر کی نذر نہ ہو۔