Home اہم خبریں ایچ ای سی نے  ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ (TDF)تحت تیار کردہ 100 سے زائد کامیاب ٹیکنالوجی حل ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ امپیکٹ شوکیسنگ (TIS’25) کے موقع پر نمائش کے لیے پیش کیے

ایچ ای سی نے  ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ (TDF)تحت تیار کردہ 100 سے زائد کامیاب ٹیکنالوجی حل ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ امپیکٹ شوکیسنگ (TIS’25) کے موقع پر نمائش کے لیے پیش کیے

اس اقدام سے پاکستان کے ٹرپل ہیلیکس ماڈل (حکومت، صنعت اور اکیڈمیا) کو تقویت ملی ہے، جو ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔چیئرمین ایچ ای سی مسٹر ندیم محبوب

by Ilmiat

اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے اپنے فلیگ شپ ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ (TDF) کے تحت تیار کیے گئے 100 سے زائد کامیاب ٹیکنالوجی حل ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ امپیکٹ شوکیسنگ (TIS’25) کے موقع پر نمائش کے لیے پیش کیے۔

نمائش میں صحت، زراعت، بایوٹیکنالوجی، انجینئرنگ، توانائی کے نظام، ماحولیاتی نظم و نسق اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سمیت اہم شعبوں سے تعلق رکھنے والی اختراعات شامل تھیں، جو اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ جامعات میں ہونے والی تحقیق کو عملی اور حقیقی دنیا کے حل میں کیسے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ایچ ای سی کے مطابق، ٹی ڈی ایف کے تحت اب تک دیے گئے 238 منصوبوں میں سے 192 کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں، جن کے نتیجے میں پیٹنٹس، مصنوعات، پروٹوٹائپس، ٹیکنالوجی لائسنسز، اسٹارٹ اپس، تحقیقی اشاعتیں اور ہنر مند افرادی قوت کی بڑے پیمانے پر تربیت ممکن ہوئی۔

May be an image of text

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایچ ای سی مسٹر ندیم محبوب نے کہا کہ TIS’25 اس بات کا ثبوت ہے کہ ایچ ای سی پاکستان کے مستقبل کو اکیڈمیا اور صنعت کے درمیان مضبوط اور پائیدار ربط میں دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ڈی ایف کا مقصد تحقیقی خیالات کو مارکیٹ کے لیے تیار حل میں تبدیل کرنا اور جامعات کو سماجی و معاشی ترقی کے محرک کے طور پر بااختیار بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے پاکستان کے ٹرپل ہیلیکس ماڈل (حکومت، صنعت اور اکیڈمیا) کو تقویت ملی ہے، جو ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

May be an image of helicopter and text

تقریب کے مہمانِ خصوصی، مسٹر امتیاز علی رستگار (چیئرمین رستگار گروپ آف کمپنیز) نے جدید معاشروں میں ٹیکنالوجی کے کلیدی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے اختراع پر مبنی منصوبوں میں تسلسل اور مستقل مزاجی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ORICs اور بزنس انکیوبیشن سینٹرز جیسے اقدامات کے ذریعے یونیورسٹی اور صنعت کے روابط مضبوط بنانے پر ایچ ای سی کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ جامعات صنعتی مسائل کے حل، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور شہری و دیہی دونوں سطحوں پر پائیدار معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔واضح رہے کہ ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ کا آغاز 2016 میں پی ایس ڈی پی کے تحت کیا گیا تھا، جو تعلیمی اختراعات کو سماجی و معاشی اثرات میں تبدیل کرنے کا ایک قومی نظام ہے، اور اس پروگرام میں جون 2027 تک توسیع کر دی گئی ہے۔

May be an image of text

You may also like

Leave a Comment