Home اہم خبریں امریکہ -ایران جنگ بندی: جامعات پر حملوں کے بعد خطے میں امید کی کرن۔۔۔۔۔۔۔۔جنگ کے آغاز سے اب تک ایران کی تقریباً 30 جامعات کو نقصان پہنچ چکا ہے، جبکہ ملک کی معروف درسگاہ شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی پر 6 اپریل کو حملہ کیا گیا

امریکہ -ایران جنگ بندی: جامعات پر حملوں کے بعد خطے میں امید کی کرن۔۔۔۔۔۔۔۔جنگ کے آغاز سے اب تک ایران کی تقریباً 30 جامعات کو نقصان پہنچ چکا ہے، جبکہ ملک کی معروف درسگاہ شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی پر 6 اپریل کو حملہ کیا گیا

by Ilmiat

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جامعات پر حملوں کے بعد ایران جنگ بندی نے خطے میں ایک نئی امید پیدا کر دی ہے۔ ماہرین اور تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ حالیہ دو ہفتوں کی جنگ بندی نہ صرف وقتی سکون فراہم کرے گی بلکہ تعلیمی اداروں کو دوبارہ استحکام کی طرف لے جانے کا موقع بھی دے سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اس وقت کمی آئی جب آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس کے بعد فریقین نے دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کیا، جسے ایک نازک مگر اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

جامعات نشانے پر، تشویش میں اضافہ

مشرقِ وسطیٰ کی مختلف جامعات کے اساتذہ اور طلبہ نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ حالیہ جنگ میں تعلیمی ادارے براہِ راست نشانہ بن رہے ہیں، اور یہ عمل “معمول” بنتا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ایران کی تقریباً 30 جامعات کو نقصان پہنچ چکا ہے، جبکہ ملک کی معروف درسگاہ شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی پر 6 اپریل کو حملہ کیا گیا۔

ایران نے گزشتہ ماہ یہ بیان بھی دیا تھا کہ خطے میں امریکی جامعات کو “جائز اہداف” سمجھا جا سکتا ہے، جس کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔

لبنان اور غزہ میں بھی تعلیمی نقصان

اسرائیلی حملے لبنان میں بھی جاری ہیں، جہاں جامعات کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ کئی اساتذہ بھی ہلاک ہوئے۔ اس سے قبل غزہ میں تعلیمی ڈھانچے کی تباہی کو بعض حلقوں نے “تعلیم کشی” (Educide) قرار دیا تھا۔

ماہرین کی رائے: علم و تحقیق کو شدید خطرہ

ماہرین تعلیم کے مطابق جنگ میں جامعات کو نشانہ بنانا ایک “حکمتِ عملی” بن چکا ہے، جس کے طویل المدتی اثرات انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف تعلیمی نظام متاثر ہوتا ہے بلکہ معاشروں کی علمی و تحقیقی صلاحیت بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔ جامعات کی تباہی عالمی تعلیمی روابط، تحقیق اور طلبہ کے اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہے۔

جنگ بندی کے باوجود بحالی مشکل

ماہرین کے مطابق اگرچہ جنگ بندی ایک مثبت قدم ہے، لیکن تعلیمی اداروں کی بحالی ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہوگا۔ صرف عمارتوں کی مرمت کافی نہیں بلکہ تعلیمی کمیونٹی، بین الاقوامی روابط اور طلبہ کے اعتماد کو بحال کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

“کوئی اصول باقی نہیں رہا”

ماہرین نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ حالیہ جنگ میں جامعات پر حملوں کو یہ کہہ کر جواز دیا جا رہا ہے کہ وہ عسکری تحقیق سے منسلک ہیں۔ اس رجحان کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اگر یہی منطق اپنائی گئی تو دنیا کی بیشتر جامعات ممکنہ اہداف بن سکتی ہیں۔

:

ایران جنگ بندی نے اگرچہ وقتی طور پر خطے میں سکون پیدا کیا ہے، لیکن جامعات پر حملوں نے عالمی سطح پر ایک سنگین بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تعلیمی اداروں کے تحفظ کو یقینی نہ بنایا گیا تو مستقبل میں علم، تحقیق اور عالمی تعاون شدید خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

You may also like

Leave a Comment