Home اہم خبریں آنے والا دور مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا ہے، اس لیے ہمیں 2025 سے 2030 کے درمیان اپنے پرائمری سکولوں سے ہی اے آئی اور ڈیجیٹل تعلیم کا آغاز کرنا ہوگا

آنے والا دور مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا ہے، اس لیے ہمیں 2025 سے 2030 کے درمیان اپنے پرائمری سکولوں سے ہی اے آئی اور ڈیجیٹل تعلیم کا آغاز کرنا ہوگا

ہنرمند پنجاب اور ای روزگار جیسے پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہیں اور ہماری نوجوان نسل کو جدید تقاضوں کے مطابق ہنرمند بنانا ناگزیر ہے........قائم مقام گورنر پنجاب ملک محمد احمد خان

by Ilmiat

: قائم مقام گورنر پنجاب ملک محمد احمد خان کہا ہے کہ آنے والا دور مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا ہے، اس لیے ہمیں 2025 سے 2030 کے درمیان اپنے پرائمری سکولوں سے ہی اے آئی اور ڈیجیٹل تعلیم کا آغاز کرنا ہوگا۔ وہ پنجاب یونیورسٹی الرازی ہال میں ہنرمند پنجاب اسکالرشپ کی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے۔ اس موقع پر وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات، وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی،فیکلٹی ممبران اورطلباؤطالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قائم مقام گورنر پنجاب ملک محمد احمد خان نے کہا کہ کسی بھی شعبے میں امتیازی کامیابی اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثمر ہوتی ہے اور موجودہ پنجاب حکومت وزیر اعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں اس خطے کی واحد حکومت ہے جس نے اپنے تعلیمی بجٹ کو تین گنا بڑھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنرمند پنجاب اور ای روزگار جیسے پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہیں اور ہماری نوجوان نسل کو جدید تقاضوں کے مطابق ہنرمند بنانا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اسکلز میسر نہ ہونے کے باعث میری نسل ایک بحرانی دور سے گزری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 60 ہزار سرکاری سکول موجود ہیں اور اگر اس سطح پر انقلابی فیصلے کوئی کر سکتا ہے تو وہ وزیر اعلیٰ مریم نواز ہیں۔ انہوں نے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے اخراجات کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ نجی سکولوں میں ایک بچے پر ماہانہ بھاری اخراجات آتے ہیں جبکہ سرکاری سکولوں میں سالانہ بہت کم رقم خرچ کی جاتی ہے، اس لیے ہمیں سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے بچوں پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے کہا کہ حکومت پنجاب نوجوانوں کی تعلیم اور فلاح کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ  پنجاب یونیورسٹی کے بالمقابل پھولوں کی مارکیٹ میں دکانوں کی نیلامی سے حکومتی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گوگل کے اشتراک سے ہزاروں طلبہ کو مفید ڈیجیٹل کورسز کروائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دو برسوں میں پانچ لاکھ بچوں کو ڈیجیٹل اسکلز فراہم کی جائیں گی، ایک ملین ڈیجیٹل کورسز کروائے جائیں گے اور صوبے بھر کے ہائی سکولوں میں چار ہزار اے آئی لیبز قائم کی جا رہی ہیں۔

 

پنجاب یونیورسٹی اور ہنرمند پنجاب کنسورشیم کے درمیان نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافے اورجدیدٹیکنالوجیز میں استعداد کار بڑھانے کے لیے معاہدہ طے پاگیا۔ 

May be an image of text

 پنجاب یونیورسٹی اور ہنرمند پنجاب کنسورشیم کے درمیان نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافے اورجدیدٹیکنالوجیز میں استعداد کار بڑھانے کے لیے معاہدہ طے پاگیا۔ اس سلسلے میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کے آفس میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی، سی ای او ہنرمند پنجاب کنسورشیم محمد عمران، ڈائریکٹر سینٹر فار ہائی انرجی فزکس ڈاکٹر قدیر افضل ملک، ڈائریکٹر ایکسٹرنل لنکجز پروفیسر ڈاکٹر یامینہ سلمان و دیگرنے شرکت کی۔ تفصیلات کے مطابق یہ اشتراک پنجاب یونیورسٹی سینٹر فار ہائی انرجی فزکس کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، جس کا مقصد نوجوانوں کو صنعت سے ہم آہنگ ڈیجیٹل اور تکنیکی مہارتیں فراہم کرنا ہے تاکہ ان کی ملازمت کے مواقع بڑھیں اور صوبے میں بے روزگاری میں کمی لائی جا سکے۔معاہدے کے تحت جدید شعبوں میں پیشہ ورانہ تربیتی پروگرامز پیش کیے جائیں گے جن میں مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، سائبر سیکیورٹی اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ تربیتی پروگرامز کا دورانیہ تین سے چار ماہ ہوگا جبکہ پانچ سے زائد طلبہ کو تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ہنرمند پنجاب کنسورشیم، جس میں سائبر سیکیورٹی پاکستان، نیشنل انیشی ایٹو فار ای کامرس اینڈ انکیوبیشن پروگرام اور نیشنل انیشی ایٹو فار سمارٹ اکانومی شامل ہیں، مارکیٹنگ، اساتذہ کی فراہمی، نصاب کی تیاری، تعلیمی نظم و نسق، مانیٹرنگ، کوالٹی اشورنس اور تشخیص کی ذمہ داریاں انجام دے گا

You may also like

Leave a Comment